مستقبل کا نوجوان تحریر: محمد عماد الدین قادری
نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، اور ان کا کردار اور اخلاق قوم کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔ آج کے حالات پر نظر ڈالیں، تو ہندوستان کے شہریوں کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ کئی لوگ بنیادی ضروریات جیسے کھانے کے لیے روٹی اور پینے کے لیے صاف پانی سے بھی محروم ہیں۔ ایسے گھمبیر حالات میں، ملتِ اسلامیہ کے باشعور اور باصلاحیت نوجوان امید کی ایک روشن کرن ہیں۔ یہ نوجوان اپنی صلاحیتوں اور کردار کے ذریعے نہ صرف اپنی قوم بلکہ اپنے ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب نوجوانوں نے اپنی زندگی کو جدوجہد اور قربانی کے لیے وقف کیا، تو دنیا میں انقلاب برپا ہوئے۔ سب سے عظیم انقلاب، حضور اکرم ﷺ کا لایا ہوا انقلاب، اسی حقیقت کی ایک مثال ہے۔ اس انقلاب کے پیچھے حضرت علیؓ، حضرت زبیرؓ، اور حضرت مصعب بن عمیرؓ جیسے نوجوانوں کا خون، جذبہ، اور عزم شامل تھا۔
حضرت مصعب بن عمیرؓ کی زندگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اعلیٰ اخلاق اور مضبوط کردار کس طرح ایک نوجوان کی زندگی کو عظیم مقصد کے لیے وقف کر سکتا ہے۔ ایک مالدار گھرانے سے تعلق رکھنے والے مصعب بن عمیرؓ نے، جب اسلام کا پیغام سنا، تو نہ صرف اسے قبول کیا بلکہ اس کے لیے اپنی تمام آسائشیں اور سہولتیں قربان کر دیں۔ جب ان کے والدین نے انہیں گھر سے نکال دیا اور تمام مال و اسباب چھین لیا، تو انہوں نے اس محرومی کو ہمت و حوصلے میں تبدیل کر دیا۔ وہ دنیا کو یہ پیغام دینے میں کامیاب رہے کہ سچا عزم کسی بھی مشکل کو شکست دے سکتا ہے۔
آج کے نوجوانوں کو سمجھنا ہوگا کہ صرف تعلیمی کامیابیاں یا معاشی ترقی کافی نہیں ہیں۔ ایک مضبوط اور کامیاب قوم کی تعمیر کے لیے، ہمیں ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اعلیٰ کردار اور اخلاقی اقدار کے حامل ہوں۔ جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا:
"اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد"
نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا ہوگا اور اپنی زندگی کو تعلیم، تحقیق، اور فلاحی کاموں کے لیے وقف کرنا ہوگا۔ اپنے اخلاق کو اس قدر بلند کریں کہ آپ کی شخصیت روشنی کا مینار بن جائے، جو دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بنیں۔۔ ہر نوجوان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی زاتی ترقی، قوم کی اجتماعی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ ایک مضبوط قوم تبھی تشکیل سکتی ہے، جب اس کے نوجوان بلند حوصلے، اعلیٰ کردار، اور جدوجہد کی عظیم مثال ہوں۔ آپ کا کردار آپ کی پہچان ہے، اور یہی کردار آپ کو عظمت کی راہ پر گامزن کرے گا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اپنی توجہ علم کے حصول، سماجی خدمت، اور قوم کی تعمیر پر کریں۔ اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھ لیں اور سچے دل سے عمل کریں، تو ہندوستان کا مستقبل روشن ہوگا، اور ہم دنیا کے لیے ایک مثال بن سکیں گے۔ ان خیالات کا اظہار عماد الدین قادری نے نماز جمعہ سے قبل مسجد مصطفی اولیاء باغ سے کیا